خانه / تآلیفات / میزان شناخت

میزان شناخت

میزان شناخت

 

 

 

مؤلف:

استا د المحقق سید جعفر سیدان

 

مترجم :  محمد حسین بہشتی

 

 

 

 

مشخصات

 

نام کتاب : ………………………………………معیار شناخت

مؤلف:…………………………..  استادالمحقق سید جعفر سیدان

مترجم:………………………………………..   محمد حسین بہشتی

تصحیح : …………………………………………..  شبیہ الحسن فیضی

کمپیوزنگ:  ………….. ………………………….  کوثرنقوی

ناشر :

تعداد:

؟

 

 

 

 

 

 

 

فہرست

مضامین  …………………… …  صفحات

پیشگفتار……………………………… …………………..  ٧

کیہان فرہنگی کا مقدمہ  ……………… ……………………  ٩

گفتار مترجم  ……………………… ……………………… ١١

معیار معرفت …………………… ………………………… ١٣

مادیوں کا مکتب………………… …………………………. ١٣

صوفیوں کا مکتب  ……………. …………………………..١۵

فلاسفہ کا مکتب………………… ……………………………١٧

مکتب عرفان واشراق  ………. …………………………….٢۵

مکتب وحی  …………………. …………………………….٢۶

معاد جسمانی اور روحانی……… ……………………………..٢٩

آیات قرآن کریم:………… ………………………………٣١

احادیث شریفہ:…………… ……………………………..٣٣

معاد جسمانی کے سلسلے میںاخوند ملا صدرا کا نظریہ…………..٣۶

ملاصدرا کے نظریہ کی رد میں تین برجستہ شخصیتوں کے اقوال ….٣٩

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پیشگفتار

 

دین کے پر اہمیت موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ دینی معارف کی شناخت کے لئے صحیح اور درست راستہ کو پالیا جائے ۔ کیونکہ انسان کا نظریہ  راستہ کے انتخاب کرنے میں تغییر کرتا رہتا ہے اور اس کے نتیجہ میں انسان کے لئے ایسے اعتقاد ات حاصل ہوتے ہیں کہ آخر کار یہ اعتقادات انسا ن کی کامیابی یا گمراہی کے باعث بنتے ہیں۔

لہٰذابعض دوستوں کے سوال کی بناپر مسائل اعتقادی کے معیار شناخت کے بارے میں ایک مقالہ : دیماہ ١٣۶۴(ایرانی تاریخ کے مطابق) میں اسی موضوع شناخت کے سلسلہ میں کیہان فرہنگی نامی مجلہ میں  چھپا تھا۔مگر اسے    تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ مختصر طور پر مسائل اعتقادی کے معیار شناخت کے بارے میں کتابچہ کی شکل پیش کیا گیا ہے۔

امید ہے کہ صحیح اعتقادات تک پہنچنے کے لئے ایک مفید قدم اٹھایا ہو۔

 

 

 

کیہان فرہنگی کا مقدمہ

کیہان فرہنگی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اس کی ایک مناسب موقعیت رہے تاکہ ملک کے مفکر ین و دانشوروں کو اپنے افکار وآراء اور نظریات کو مختلف موضوعات کے بارے میں نقد و تنقید کا موقع فراہم ہو۔ اور اس کے صفحات ایک زمینہ کی حیثیت رکھیں فکری و نظری بحثوں کی رشد و ارتقاء کے لئے ، اسی طرح ہمارے سماج کے حوادث و مشکلات اور مسائل کے راہ حل کے لئے ایک مناسب فضا و جود میں لائے۔

آخر کار اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنی حد تک مشکلات فکری کے حل کرنے اور ارتقاء وترقی کے لئے اس قسم کے مطالب و مباحث مفید ثابت ہوں۔

اسی چیز کے پیش نظر ایسے مقالے کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ارتقاء کا تازہ اور نیا زمینہ فراہم کریں ان کی نگاہیں ہمیشہ ایسے مطالب کی تلاش میں رہتی ہیں ،یہ صحیح ہے کہ اس ارتباط کے سلسلہ انھیں مفید تجربہ حاصل ہے۔ اوران کا اعتقاد ہے کہ تجربے کے ذریعہ باق راستوں کو طے کیا جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔

دوبارہ تمام صاحبان فکر و نظر اور مفکروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ افکار و آراء کی بحثوں میں شرکت فرمائیں۔ اس کا نتیجہ ملک کے اندر نونہالوں کے تفکر کی ثمرآوری و شگوفائی کا باعث بنے گا۔ لوگوں کو چاہئے کہ اس نشر یہ کی امداد و اعانت سے دریغ نہ کریں۔

درج ذیل نوشتہ ،کلام وحی ماننے والوں اور فلاسفہ کے درمیان جو فرق ہے اس کو میزان شناخت کے عنوان سے حاضر خدمت کیا جارہا ہے جو مطالعہ کرنے والوں کی نگاہوں سے گزرے گا ۔

کیہان فرہنگی ،شمارہ ١٠، سال دوم ،دی ماہ ١٣۶۴ ۔

 

 

 

 

 

 

گفتار مترجم

استاد محقق حضرت آیه اللہ سید جعفر سیدان کی شخصیت، تعارف کی محتاج نہیں ہے، بس آپ کے لئے یہی کافی ہے کہ حوزہ علمیہ مشہد مقدس میں ایک مایۂ ناز استاد ،مفکر ، محقق اور دانشور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مشہد مقدس میں استاد سیدان کو بہ عنوان استا د متکلم ،فقیہ ،عارف مفسر اور پورے ایران اسلامی میں اہل علم و دانش کے درمیان آپ ایک عظیم خطیب ،منقولات اور معقولات کے ماہر استاد اور مسلک تفکیک کے سر برآورہ رہنمائوں میں سمجھے جاتے ہے،علمی دنیا میں آپ ایک خستگی ناپذیر مجاہد اور مذہب حقہ اثناعشریہ کے عظیم مدافع اور مبلغ ہیں آپ صفرہ درس پر ایک کہنہ مشق استاد ،منبر سلونی کے ایک مایہ ناز سخنور ،کلام اللہ مجید کی نشرو اشاعت میں ایک عظیم مفسر ،خصوصا علم کلام میں آپ کی ایک پہچان ہے نیز آپ کو عالیقدر استاد کے طور مانا جاتا ہے، آپ نے اب تک کئی علمی ،فکری اعتقادی اور فلسفی نکات پر قلم فرسائی کی ہے جس میں ایک کتاب بنام میزان شناخت ہے جس کا ترجمہ آپ کے مبارک ہاتھوں میں (بنام معیار شناخت)موجود ہے انشاء اللہ المستعان مورد پسند قرار پائے گی۔

بس خدا وند منان سے دعا کرتے ہیں کہ موصوف کو راہ حق وحقیقت مے  مزید توفیقات میںعطا فرمائے اور راہ حق و معرفت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی عنایت کرے۔

لطف عالی متعالی

محمد حسین بہشتی

حوزہ ٔ علمیہ مشہد مقدس (ایران)

 

 

 

 

 

 

 

معیار شناخت(Epistemology)

غورو فکر اور شناخت کی اہمیت کو ملاحظہ کرتے ہوئے اور یہ کہ صحیح شناخت، انسان کے اہم ترین امتیاز ات میں سے ایک ہے، کسی چیز کی صحیح پہچان ہی اس کی معرفت ہے ہم اختصار کے ساتھ اہم بشری مکاتب اورا س کے معیار شناخت کے   بارے میں بحث کریں گے اس کے بعد بعض راہ و روش اور طور طریقوں کا مقائسہ کرتے ہوئے صحیح پہچاننے کے طریقے پیش کریںگے۔ جیسا کہ فہم اور درک کی قدرو قیمت اوراس کی حقیقت وسند مختلف ادیان اور ملل کے لئے قابل قبول ہیں اس کے باوجود دانشوروں اور ہستی و جہان کے حقائق میں تحقیق کرنے والوں نے  صحیح پہچان کے بارے میں متعدد طریقے اورآرائبیان کئیہیں۔

 

مادیوں کا مکتب(Materialistic School)

مادیوںکی نظر میں حق وحقیقت تک پہنچنے کا راستہ حس و تجربہ ہے یہ لوگ کہتے ہیں وہ افکار اور آراء جو حس اور تجربہ کی نبیاد پر معین اور مشخص ہوئے ہیں وہ قابل قبول ہیں اور بس۔ لہٰذا حس و تجربہ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ نظریہ کا جواب موجود ہے :ہاںبہت سے حقائق تک پہنچنے کے لئے حواس بڑا کردار ادا کرتا ہے اسی وجہ سے یہ کہاگیا ہے:

”من فقد حسا فقد فقد علما”؛

جو حواس میں کسی ایک کو کھودے تو یقینا اس نے علم کاا یک حصہ کھودیا ہے۔

بیشمار دلائل موجود ہیں جو مادیوں کے نظریہ کو باطل کرتے ہیں ہم ان میں سے بعض کو یہاں بیان کریں گے۔

الف:… حواس کی خطا قطعی اور بدیہی باتوں میں سے ہے اور سب کے لئے قابل قبول ہے اسی وجہ سے خود حس، کسی میزان اور وسیلہ کی محتاج ہے۔

ب:… مختلف علوم کے   کلی قوانین، مثلا ریاضی ،فیزکس اور دوسرے علوم جو سب کے لئے قابل قبول ہیں لیکن اس کے باوجود ان علوم کیتمام قانون حس کے ذریعہ حاصل نہیں ہوئے۔اور حس کے ذریعہ ان کی تحقیق نہیں ہوئی ہے۔

 

 

 

صوفیوں کا مکتب(Sufi School Of Thought)

صوفیوں کی نظر میں عقلی اور فکری اہمیت کے ساتھ بہت سے عادی مسائل میں کسی حق و حقیقت تک پہنچنے کا معیار اور ذریعہ کشف اور مکاشفہ ہے اور کہتے ہیں ”پائے استدلالیان چوبین بود”

یہ لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ انسان ہستی کے مہم حقائق کو بغیر کشف و شہود کے نہیں سمجھ سکتا لہٰذا اہل استدلال و منطق کو بہت سے مسائل میں عاجز او ر ناچار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں ان حقائق تک پہنچنے کا راستہ ( طور وراء طور العقل) ہے۔ (١)

ان لوگوں کے نظریہ بھی نامکمل اور خدشہ دار ہیں ۔

اس بات کوپیش نظر ر کھتے ہوئے ہوسکتا ہے   کشف و شہود بعض موقعوں پر حقیقت کو پالیں لیکن  کسی حق و حقیقت تک پہنچنے کا معیا ر نہیں بن سکتے ہیں، کیونکہ:

پہلا :بہت سے موارد میں کشف کرنے والے افراد ایک دوسرے سے اختلاف  اور تضاد رکھتے ہیں اس وجہ سے صحیح اور غلط         کی پہچان کے لئے مکاشفہ کے علاوہ کسی دوسرے   معیار کی ضرورت ہوگی۔

(١) عقل کی حالت و کیفیت کے ماوراء ایک حالت کا نام ہے ۔

دوسرا:احتمال پایا جاتا ہے  کہ جو کچھ مکاشفہ میں مشاہدہ ہوا ہے یہ وہی ریاضت اور مکاشفہ کے مقد مہ کا اثر ہو نہ کہ حقیقت اور واقع تک پہنچنے کامعیار ، اس سلسلہ میں  بہت سی مثا لیں موجود ہیں مثال کے طور پر کسی دواکے استعمال سے جواثر اور حالت پیدا ہو تی ہے یہ وہی دوا کا اثر ہے نہ کہ حقیقت اور واقع کا آشکار کرنے والا ۔(١)

(١)ثالثا: یہ کہ بہت سے کشف وشہود ایسے ہیں جو ہمارے یقینی و قطعی مسائل کے خلاف ہیں لہٰذا وہ معیا ر شناخت نہیں بن سکتے ۔

جیس محی الدین بن عربی کا کشف ہے کہ خصوص الحکم کے فص داودیه میں کہتے ہیں:

”ولہذا مات رسو ل اللہ  ۖ وما نص بخلافه عنہ الی احد ولا عینہ لعلمہ ان فی امتہ من یاخذ الخلافه عن ربہ فیکون خلیفه عن اللہ مع الموافقه فی الحکم المشروع ۔ فلماعلم ذلک(  ۖ) لم یحجر الامر.

صاحب کتاب ممدالہمم ،شرح فصوص الحکم ،ص ١۴٠، پر اس عبارت کی شرح کے بعد حاشیہ میں کہتے ہیں:

اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول خدا  ۖ نے اپنا جانشین معین کیا ہے اور وہ امیر المومنین حضرت علی  ـ ہیں ۔چنانچہ  اس میں بھی شک نہیں ہے کہ رسول خدا ( ۖ )نے رحلت کے وقت اپنا خلیفہ و جانشین معین نہیں کیا اس لئے کہ جب آپ ۖ نے کاغذ و قلم مانگا تو عمر نے کہا: کتاب خدا ہمارے لئے کافی ہے ( وان الرجل لیہجر) ”یہ شخص ہذیان بک رہا ہے ”اوریہ  مسئلہ  پیغمبر اسلام  ۖ کے حضور میں نزاع و جھگڑے کی حد تک پہنچا جیسا کہ اس کی تفصیل فریقین (شیعہ سنی) کی کتابوں میں مذکور ہے۔(باقی اگلے صفحہ پر )

 

فلاسفہ کا مکتب(School Of Philosophy)

فلاسفہ کی راہ و روش  کے مطابق تنہا عقل معیار حق و حقیقت ہے اور اس مکتب میں جو کچھ بھی عقل و فکر اور دلیل سیحاصل نہ ہوں وہ معتبر نہیں ہیں اور وہ اعتبار سے ساقط ہیں، اس کو قبول نہیں کرتے ہیں ،لہٰذا یہ روش بھی پہلے والی راہ و روش کی طرح شرعی اور مکتب و حی کے مطابق مثبت اور منفی ہونے کے حوالے سے قابل ذکر نہیں ہے یعنی ایک فلسفی دلیل اور برہان کی بنیاد پرراستہ طے کرتا ہے وہ اپنی راہ و روش کے موافق اور مخالف ہونے کے نتیجہ کے بارے میںشریعت کو مورد توجہ قرار نہیں دیتا  ہے اس ضمن میں اسلامی فلسفہ کے حوالے سے جو بات آتی ہے وہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔

 

جبکہ رسول خدا  ۖ جانتے تھے کہ ان کی امت میں ایسا شخص موجود  ہے کہ جو خلیفہ ہے اورحقیقت میں وہی آنحضرت  ۖ کا جانشین ہے۔

اورا گر لفظ میں بہت زیادہ ثبوت وجمود کیا جائے تو کہنا چاہیئے کہ شیخ ،صاحب عصمت نہ تھے اور اول کتاب میں تصریح کے طور پر کہا ہے کہ میں رسول و نبی نہیں ہوں۔ لیکن وارث اور پاسبان آخرت ہوں۔ اور چونکہ وہ صاحب عصمت ،رسول اور نبی نہیں ہے لہٰذا اس کا کشف اس کے اعتقاد کے مطابق اورانس و الفت کے سابقہ کی بنا پر حق تعالیٰ کی جانب سے ہے جس میں اشتباہ واقع ہوا ہے۔

میری نظر میںاعتراضات میںسے ایک اعتراض جو راہ و روش فلسفی کے بارے میں ہے وہ یہ کہ کہا جاتا ہے عقل جہاںبھی واقعی معنیٰ میں  راہ پیدا کرے جو کچھ بھی درک کرے اور حکم کرے تو بغیرکسی   چوں و چرا کے  قابل قبول ہے لیکن دوسری طرف بہت سے عقلاء اور دانشوروں کی طرف سے جو حکم ،اساسی اختلاف وہ بھی تضاد کی حد تک  بہت سے مہم مسائل میں جو فلسفی کتابوں میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کر نے سے پتہ چلتا ہے تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عقل کو تمام مسائل میں راہ نہیں حاصل ہے اس حوالے سے عقل محدود کی شعاع سے بہت سے مہم مسائل، نور عقل کے دسترس سے خارج ہیں نیز بہت سے مسائل، جو عقل کے دائرہ میں آتے ہیں ان مراحل میں بھی عقل کا ان  حقیقتوں تک پہنچنا بہت دشوار  دقیق ہے،یہاں تک کہ ان حقائق تک رسائی فقظ ان عظیم المرتبہ انسان کے بس میں ہے۔

لہٰذا ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عقل کا استعمال بہت ہی محدود ہے اس لحاظ سے تمام مسائل میں عقل سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے مدنظر فلسفی راہ و روش   کو معیار کامل اور کافی و وافی نہیں جانا سکتا ہے۔

شیخ الاشراق اور شیخ الفلا سفہ کے نظریہ کے بنیادی اختلافات :

تضاد کی بنیاد  اور نظریات شیخ اشراق اور شیخ الفلاسفہ ابن سینا اور اخوند ملا صدرا اور دوسرے فیلسوف حضرات، اکثر اہم مسائل علم جیسے ارادہ ، حدوث، قدم اورخدا کے فاعل ہونے کے بارے میں ،جوہر میں حرکت ،اتحاد عاقل و معقول اور اصالت وجود ،تشکیک ،وحدت وجود ،مسئلہ روح، کیفیت حشرو معاد اور دوسرے فلسفی مسائل جو مکمل طور پر اس راہ و روش کوپُر خطر او رناامن بنادیتے ہیں مذکور ہ بالا نظریات سے ہم نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ حجیت عقل اپنی جگہ محفوظ، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ عقل کی کار کردگی بہت محدود ہے اس محدود یت میں اطمینان کے ساتھ تمام مباحث اور مسائل پر اعتماد نہیں کرسکتے ہیں اس وجہ  سے یہ بات  واضح ہے کہ حقائق ہستی اور جہان تک پہنچنے کا صحیح راستہ اور طریقہ اسی مستقلات عقلیہ  کے حدود میں کہ جس میں عام طور سے اتفاق و اتحاد پایا جاتا ہے  وہی عقل پر منحصر ہے اور اسی پر اعتماد و بھروسہ ہے۔

خداوند عالم کی واحدانیت اور پیغمبر اکرم  ۖ کی رسالت اور مکتب وحی  پر اعتقاد کے بعد جو اسیعقلی فطری ثابت ہوتی ہے ،اطمینان بخش،صحیح  راستہ اس   وحی الٰہی میں تدبر اور تعقل ہے اور جو کچھ وحی کے ذریعہ سند اور دلالت کے اعتبار سے روشن و واضح طورپر استفادہ ہو وہی   قابل اطمینان ا   ور حق حقیقت ہے اس صورت کیعلاوہ انسان کے لئے بڑی بڑی غلطیوں اور لغزشوں میں  واقع ہونے کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے سر پر منڈلاتار ہے گا اسی مطلب کومرحوم شیخ انصاری رحمه اللہ علیہ نے کتاب رسائل میں قطع (یقین ) کی بحث میں ذکر کیاہے:

”واوجب من ذلک تر ک الخوض فی المطالب العقلیه النظریہ لادراک ما یتعلق باصول الدّین فانہ تعریض للہلاک الدائم والعذاب الخالد وقد اشیرالی ذلک عند النہی  عن الخوض فی مسئله القضاء والقدر ۔”

احکام میں عقلی استدلال پر اعتماد کو ترک کرنے سے واجب تر ہے کہ غور و فکر کیا جائے عقلی و نظری مطالب میں جو اصول دین سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہیہ طور اور طریقہ انسان کے لئیدائمی ہلاکت اور ہمیشگی عذاب کا باعث ہے۔ جیسا کہ مسئلہ قضا و قدر میں غورو خوض کرنے سے منع کرتے وقت اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

میں بحث کے اس حصہ میں تین مطلب کا ذکر کرنا ضرور ی سمجھتا ہوں:

الف: … اگر کہا جائے مختلف مسائل میں فلاسفہ کے اختلاف کو بنیاد بنا کر نہیں کہاجاسکتا ہے کہیہ فلسفی روش کے غلط اور عدم اطمینان کی دلیل ہے ،جس طرح اختلاف فقہا ء کو فقہ و فقاہت غلط ہونے کی دلیل نہیں بنا سکتے اسی طرح اختلاف فلاسفہ کو دلیل نہیں بناسکتے ہیں ، تو عرض کروں گا روش فلاسفہ کو روش فقہاء سے مقائسہ کرنا اس اعتبار سے صحیح مقائسہ نہیں ہے، کیونکہ

اول: فلسفیوں کا قطعی طور پر حق و حقیقت تک پہنچنے کا دعویٰ ہے لیکن   ان کے درمیان ایک دوسرے سے شدید اختلافات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی کہی ہوئی بات     قطعی و یقینی  نہیں ہوگی لیکن فقہاء نے   قطعی و یقینی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے  ان کے اختلافات  ان کے مدعا کے خلاف کسی چیز کو ثابت نہیں کرتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے استنباط بہت سے موار  د میں ہمارے لئے اطمینان بخش ہیں ۔

دوسرے: فقہاء نے اپنی تکلیف اور ذمہ داری کے مطابق عمل کیا وہ ذمہ داری اور مسئولیت جو قطعی اور یقینی ہے قرآن اور حدیث اور معصومین  ٪ کے فرامین میں رجوع کیا ہے اور دوثقل عظیم سے تمسک کیا ہے، استنباط میں اگر اشتباہ کریں، غلطی کریں تو یہ لوگ معذور ہیں کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

لیکن اس کے برعکس فلاسفہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ واقعیت و حقیقت کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں کیونکہ عقائد اور معارف اسلامی کے ساتھ ارتباط رکھتے ہیں اسی لئے راستہ بھییقینی ہونا چاہیئے اگرایک احتمال بھی ہزاراحتمال میں واقع کے خلاف دیں تب بھی چاہئے کہ تمام  کے احتمالا ت کو نظر انداز کر کے واقع کوجس طرح سے وہ ہے مبہم ہو یا مجمل اور جو کچھ بھی   اعتقاد رکھیں  بلکہ وحی کو قبول کرنے کے حوالے سے ان لوگوں کو وحی کے بارے میں تدبر اور دقت نظر سے کام لینا چاہیئے۔

٢۔ مرحوم شیخ انصاری رحمه اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ اصول دین میں عقلی استدلال سے پرہیز کرنا ضروری ہے حالانکہ فقہائے کرام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

”اصول دین میں تقلید جائز نہیں ہے”۔

ان دو مطالب کو کیسے جمع کریں   اور سلجھائیں نیزکس طرح بیان کریں  ؟   تو ہمارا جواب ہے کہ  ان دو مطالب کے درمیان کوئی اختلاف اور منافات نہیں ہے اس کے علاوہ   یہ ہے کہ اجتہاد   بعض موارد میں منقول اسناد کی بنیاد پر جیییمعاد اور امامت ہے اورعقلی استدلالات سے نفی کرنے  سے مراد اصول دین میں   مستقلات عقلیہ کی نفی نہیں ہے بلکہ مستقلات عقلیہکا حجت ہونا یقینی اور واضحہے اس بناپر اصول دین میں اجتہاد کا لازمہ درج ذیل دو معنی میں سے ایک معنی ہے:

الف:۔ اصول دین مستقلات عقلیہ اور فطری عقل کی بنیاد پر ہو جیسے توحید اور نبوت۔

ب:۔ اصول دین مستند اور معتبر دلیلوں کی بنیاد پر ہو جیسے معاد اور امامت۔

بہرحال اصول دین میں کسی دوسرے کی تقلید اورپیروی جائز نہیں ہے بلکہ فطری عقل کے ذریعہ انسان خود  درک کر ے اور مقصد وواقع تک پہنچنے ، اگر چہ تذکرہ اور   یاد دہانی کے ذریعہ   کیوں نہ ہو ۔ جیسے توحید اور نبوت یا دوسرے مطالب کو سمجھنے کے لئے کتاب و سنت کا سہارا لیاجائے۔

٣۔ا گر کہا جائے جو کچھ بھی فلاسفہ کے بارے میں کہا گیاہے وحی اور شرعی دلیل کے حوالے سے  مثبت یامنفی طور پر ان کے لئے ثابت نہیں   ہے ۔ یہ وہ بات ہے جو غیر اسلامی فلاسفہ کی نسبت یا کلی طورپر فلسفی روش کی بنیاد کے بارے میں بمعنای خاص کلمہ ہے جیسا کہ مشہور فلسفی  جناب ملا ہاد ی سبزواری   اپنی کتاب شرح منظومہ میں حصہ فلسفہ صفحہ ۶٨ پر ان الفاظ کے ساتھ رقم طراز ہیں:

ضروره القضیهالفعلیه                           لوازم الاول والمہیه

اس کی شرح میں آیا ہے :

”قولنا المتصدین لمعرفتہ الحقایق وہم اربع فرق، لانہم اما ان یصلوا الیہا بمجرد الفکر او بمجرد تصفیہ النفس بالتخلیه والتخلیه او بالجمع بینہما فالجامعون ہم الاشراقیون والمصفون ہم الصوفیہ والمقصرون علی الفکر اما یواضبون موافقه اوضاع مله الادیان وہم المتکلمون او یبحثون علی الاطلاق وہم المشائون والفکر مشی العقل اذ الفکر حرکه من المطالب الی المبادی ومن المبادی الی المطالب”۔

وہ لوگ جو حق و حقیقتکی شناخت کی جستجو اور تلاش میں ہیں چار گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں چونکہ یہ لوگ فقظ فکرکے ذریعہ حقائق تک پہنچنے کی تلاش میںہیں۔ یا تزکیہ نفس اور بری چیز وں سے پرہیزنیز اپنے نفس کو خوبیوں سے مزین اور اپنے اخلاق کو ٹھیک کرکے ان مقاصدتک پہنچتے ہیںاور معرفت حاصل کرتے ہیں یاان دونوں کو جمع کر کے فکر  اورتزکیہ وتہذیب نفس کے میدان میں آگے بڑھ جاتے ہیںانھیں اشراقیون اور وہ جماعت جو صرف تزکیہ نفس کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے انھیں  صوفیہ کہتے   ہیں وہ لو گ جو تنہا فکر پراعتماد کرتے ہیں اور ادیان کا لحاظ کرتے ہیں ان کو متکلمین کہتے ہیں وہ لوگ جو تنہا فکر پراعتماد  کرتے ہیں   بغیر کسی ادیان و مذاہب کے وہ فلاسفہ مشاء ہیں ۔ مگر اسلامی فلاسفہ  نے بار بارتصریح کی ہے کہ وہ فلسفہ جو شرع اور شریعت کے خلاف ہو مطرود اور غلط ہے لہٰذا وہ خود شرعی موازین کے پابند ہیں۔ کہا جاتا ہے بعض اسلامیفلاسفہ جو مکمل طور پر مبانی فلسفہ کے بارے میں تسلط اور آگاہی رکھتے ہیں فقط ان مسائل و مباحث میں کہ جو اسلامی مسائلسے مربوط نہیں ہیں یاجگہوںپراتفاق رکھتے ہیں انھوں نے مباحث سے استفادہ کیاہے لیکن ان مواقع پر جہاں وحی الٰہی سے اتفاق نہیں رکھتے وہاں مکمل طور پر وحی الٰہی کی پیروی اور اس پر اعتمادکیا ہے ،نیز مکتب وحی کے نظریہ کو منتخب کیا ہے اور اس کے معتقد ہیں ۔

البتہ ایسے افراد در حقیقت فقیہ اور عالم ربانی ہیں ۔ دوسرے کچھ اسلامی فلاسفہ اس کے باوجودکی اسلام سے وابستگی رکھتے ہیں عملی طور پر علمی مباحث میں افکار و آراء نوابغ بشری اوربزرگوں کو اپنا محور قرار دیا ہے ۔ اور اپنے افکار میں مختلف مسائل پر اعتماد کیا ہے یہاں تک کہ اگر مکتب وحی سے حاصل شدہ نتائج ان کے افکار کے موافق نہ ہوں تو منابع و اسناد وحی کی تاویل و توجیہ کرنے لگتے ہیں جیسا کہ اس مقالہ کا خاتمہ اس گفتار کے شواہد میں سے ایک ہے ۔

 

مکتب عرفان واشراق

(Gnosticism and Illumination School)

عرفا ء اور اشراقیوں میںجو تفاوت اور فرق ہے اس اعتبارسے یہ دونوں مشترک ہیں کہ عقل اور کشف کو جمع کرنے کے قائل ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی ایک حد مقرر کی ہے نہ اس معنیٰ میںکہ یہ دونوں تمام مراحل میں ہمراہ رہیں کہ کشف حقائق کے اعتبار سے عقل و کشف دونوں اسے ثابت کریں اور اس پردلیل ہوںبلکہ دونوں میں سے کوئی بھی کسی مورد میں کوئی چیز ثابت کرے تو وہ قابل قبول ہے ، گزشتہ مطالب سے روشن اور واضح ہوجاتاہے کہ یہ روش او ر طریقہ بھی مخدوش ہے اور جو ااعتراض روش دوم اور سوم میں وارد ہوا ہے اس مذکورہ مورد میں بھی صادق آتاہے۔ یہ لوگ فلاسفہ سے زیادہ آیات اور روایات میں توجیہ اور تاویل کرتے ہیں اور اپنے نظریات کو ثابت کرنے کے لئے متشابہ آیات اور احادیث سے تمسک کرتے ہیں۔

 

مکتب وحی (The School Of Revlation)

گزشتہ بحث سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کشف اور حقائقکے بارے میںجو معیار ہے وہ عقل فطری ہے اور یہ وہ حجت ہے ۔اصطلاحی حوالے سے مستقلات عقلیہ کے حدود میں عقل قطعی طور پر حجت ہے۔

عقل فطری ہے کہ ہمیں اسی عقل فطری کے ذریعہ مکتب وحی تک پہنچنے کا راستہ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم خداوند عالم اور رسالت پیغمبر اسلام  ۖ پر پختہ ایمان و اعتقاد رکھتے ہیں۔ یہی مکتب وحی کا معیا ر اور میزان ہے لہٰذا   ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے بارے میں غور وفکر اور تدبر کریں تاکہ اس سے فائدہ اٹھاسکیں یہ اس شخص کے مانند ہے جوشمع کے نور کے ذریعہ تاریک بیابان و صحراء میںکہ جو کانٹے اور خش وخاشاک اور قیمتی گوہر سے پرہے،اس میں نفیس اور قیمتی ہیرے اور لعل و یاقوت   کی تلاش میںہو اور اسی دوران وہ شخص بے انتہا نورانی منبع سے روبرو ہوجائے توظاہرسی بات ہے ایسی صورت میں انسان کو چاہئے کہ بہتر سے بہتر طریقے سے اس نورانی جلوے سے فائدہ اٹھائے ،کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مکتب وحی اور مستند گفتار سیتحقیق اور اس سے فائدہ اٹھائیں تو یہ بات کبھی بھی  عقل فطری کے مخالف  ، نہیں پیش آئے گی اگر خدا نخواستہ  قرآن اور احادیث سے استدلال شدہ مطالب کے مقابلے میں دانشمند وں اور فلاسفہ کی بات نظر آئے( کہ جو      دانشمند حضرات جو آپس میں اختلاف رکھتے ہیں)  توواضح  سی بات ہے کہ قرآن اور احادیث سے استفادہ کئے گئے مطالب بغیرکسی توجیہ و تاویل کے قابل قبول ہونگے ۔

کیونکہ جو کچھ بھی بنام استدلا ل عقلی   وجود میںآتاہے اور ایک دوسرے کے مقابل قرار پاتا ہے ان میں سے ہر ایک میں اپنی جگہ خطا اور غلطی کا احتمال موجود ہے بلکہ بعض اوقات تو ان سب میں یہ احتمال ہوتا ہے اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے تعقل و تدبر و تفکر ،قرآن اور عترت پیغمبر  ۖ سے تمسک کا سلسلہ جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب کچھ مکتب وحی کا طرہ امتیاز ہے قرآن اور حدیث میںیہ بات متعدد بار ذکر ہوئی ہے  ان میں سے ہم یہاں بعض کا  ذکر کرتے ہیں :

١۔ (اولم یتفکروا فی انفسہم ما خلق اللّٰہ السموات والارض وما بینہما الا بالحق واجل مسمی وان کثیرا من الناس بلقاء ربہم لکافرون) (١)

کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے کہ خدا نے آسمان و زمین اور اس کے درمیان کی تمام مخلوقات کو برحق ہی پیدا کیاہے اور ایک معین مدت کے ساتھ لیکن لوگوں کی کثرت اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار کرنے والی ہے ۔

٢۔(وما اتٰکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا) (١)

اور جو لوگ کچھ بھی رسول(  ۖ )تمہیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے ر ک جائو ۔

٣۔” عن ابی عبداللّٰہ ں  قال حجه اللّٰہ علی العباد النبی والحجه فیما بین العباد وبین اللّٰہ العقل” ۔(٢)

امام جعفر صادق   ـ فرماتے ہیں : لوگوں  پر خدا کی حجت پیغمبر اکرم   ۖ ہیں اور بندوں   اورخداکے درمیان حجت عقل ہے ( عقل کے وسیلے سے پیغمبر اکرم  ۖ کے حجت خدا ہونے کے معتقد ہوتے ہیں ۔)

۴۔ ” یا ہشام ما بعث اللّٰہ انبیائہ ورسلہ الی عبادہ الا لیعقلوا عن اللّٰہ”۔(٣)

حضرت موسیٰ بن جعفر  ـ ہشام سے فرماتے ہیں: خداوند عالم نے انبیاء اورمرسلین کو لوگوں کی طرف نہیں بھیجا ہے مگر یہ  کہ لے لیں اور درک کریں جوخدا کی طرف سے ہے یعنی ایک طریقہ اور راستہ جو اللہ نے اپنی طرف قرار دیا   ہے وہ مطالب حقہ الہٰی  کو لوگپیغمبر وں اور رسولوں کے ذریعہحاصل کریں ۔

۵۔” من اخذ دینہ من کتاب اللہ وسنه نبیہ صلوات اللہ علیہ والہ زالت الجبال قبل ان یزول ومن اخذ دینہ من افواہ الرجال ردتہ الرجال” ۔(١)

امام علیہ السلام فرماتے ہیں : جو شخص  اپنے دین(عقائدو مختلف سعادت بخش مسائل) کو قرآن اور سنت پیغمبر صلوات اللہ علیہ وآلہ سے لے تو پہاڑ   اپنی جگہ سے ہل جائیںگے لیکن وہ بندہ خدا اپنی جگہ ثابت و استوار رہے گا او رجوشخص اپنے دین کو لوگوں کی زبان و افواہ سے حاصل کرے تو وہی لوگ اس کواس حق سے جوان سے لیا ہے  دور کردیں گے۔ پس حق و حقیقت تک پہنچنے کے معیار کوبیان کرنے کے بعد بعض صحیح روش کے نتائج (مکتب وحی میں تعقل و تدبر)کو بعض بشری مکتب فکر کے نتیجہ کو مقائسہ کے طور پر آپ کی خدمت میں بیان کرتے ہیں ۔

 

معاد جسمانی اور روحانی

منجملہ مسائل میں سے جو قرآن ا ور احادیث سے مستفاد مطالب اور فلاسفہ و عرفاء کے آراء و افکار کے ماحصل کے درمیان تضاد اور اختلاف کھل کر سامنے آتا ہے وہ مسئلہ معاد ہے اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے سب سے پہلے قرآن اور حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیںاور نہایت ہی دقت کے ساتھ قرآن اور معتبرحدیث سے استفادہ کرتے ہوئے نتیجہ حاصل کرتے ہیں تاکہ غیر مکتب وحی سے اپنے دل و دماغ کوسیر اورپر نہ کیا،اس کے بعد ہم مشہور فلسفی اخوند ملا صدر کے فلسفی نظریہ کو پیش کریں گے۔ ان کی مشہور فلسفی اور عرفانی روش جس کو جو آخری صدی کے فلسفی اور عرفانی روش کا مرکز اور محور سمجھا جاتاہے بیان کریں گے اس   میںجو کچھ قرآن اور احادیث معتبرہ سے فائدہ اٹھائیںگے اس کی مغایرت ان کی نظر میںپائیں گےآخر کار اس عظیم اور مشہور فلسفی اور عرفانی شخصیت کے بعض تاویلات کو اس بحث میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے وہ آیات اور احادیث جو خاص طور سے معاد جسمانی کے حوالے سے بیان ہوئی ہیں آپ دیکھیں گیکہ ان سے صراحت کے ساتھ استفادہ کیا جاتا ہے قیامت کے دن یہی انسانی بدن ہونگے جو دنیا میں اسی روح اورجسم کے ساتھ تھے اسی کے ساتھ محشور ہوںگے ایسا نہ ہوگا کہ قیامت میں فقط یہی روح ہوگی اور بس ۔

 

 

 

 

آیات قرآن کریم:

اس بارے میںقرآنی آیات  بہت زیادہ ہیں ان میں سے بعض کو یہاں بیان کیاجاتا ہے :

١۔(وضرب لنا مثلا خلقہ قال من یحیی العظام وہی رمیم ئقل یحییہا الذی انشاہا اول مر هوہو بکل خلق علیم)۔(١)

اور ہمارے لئے مثل بیان کرتاہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے اور کہتاہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتاہے ۔(اے رسول)تم کہہ دو کہ اس کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو (جب یہ کچھ نہ تھے)پہلی مرتبہ زندہ کیا وہ ہر طرح کی خلقت سے واقف ہے۔

اس آیت میں صراحت کے ساتھ اسی ہڈی کو جو اس وقت مٹی اور دھول ہوچکی ہے اس کے زندہ   کرنے کے بارے میں اعلان فرمارہا ہے اور قدرت خداوندی اس وقت کو یاد دلاتی ہے کہ یہ ہڈیاں نہیں تھیں تب تو انھیں خلق کردیا اور اب تو فقط موجود ہڈیوں کو جمع کرنا ہے۔

٢۔( ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ)(١)

کیا یہ انسان یہ خیال کرتاہے ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے۔

آیت غلط سوجھ بوجھ اور فکررکھنے والے انسان اور منکر قیامت کے بارے میںہے، اور ایسے انسان کی سرزنش کر رہی ہے اور بوسیدہ ہڈیوں کیجمع   کرنے کو بتاتی ہے کہ جو جمع آوری متفرع پر تفرق ہے.

یہ تمام بوسیدہ ہڈیاں جو تمہارے ظاہری بدن کے اجزاء ہیں اس سر زنش کے ساتھ منکرین قیامت کو یاد دلایاگیاہے کہ ہم ان ہڈیوں کو جمع کریں گے۔

٣۔( وانظر الی العظام کیف ننشزہا ثم نکسوہا لحما فلما تبین لہ قال اعلم ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر)۔(٢)

پھر ان ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح جوڑ کر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی تو بیساختہ آوازدی کہ مجھے معلوم ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے

یہ آیت معاد جسمانی کو اچھی طرح پیش کر تی ہے جو سوسال گزر نے بعد عزیرکی سواری کومتلاشی ہونے کے بعد دوبارہ گوشت اور پوست چڑھتے ہوئے  دیکھایا او رصراحت کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ روح کا ارتباط اسی انسانی بدن کے اجزاء کے ساتھ ہے اور اس بات کوذکر کیا ہے۔

۴۔(وان اللّٰہ یبعث من فی القبور )۔(١)

اور اللہ قبروں سے مردوں کو اٹھانے والا ہے ۔

یہ بات واضح ہے کہ روحیں قبروں میں نہیں ہوتیں بلکہ وہی بوسیدہ ابدان قبر میں ہیں جنھیں زندہ کیا جائے گا۔

ان قرآنی آیات کی طرح بہت سی معتبر احادیث بھی موجود ہیں جن میں سے چند احادیث ہم یہاں بیان کرتے ہیں:

 

احادیث شریفہ:

١۔”فی الاحتجاج : عن الصادقں انہ سئل : عن الناس یحشرون یوم القیامه عراه ؟ قال ں: بل یحشرون فی اکفاہنم ،قال : انی لہم بالکفان۔ وقد بلیت ؟! قال ں: ان الذی احیا ابدانہم جدّداکفانہم ”۔(١)

حضرت امام صادق   ـ سے سوال کیا گیا کہ کیا لوگ روز قیامت ننگے محشور ہوں گے ؟ حضرت  ـ نے فرمایا :بلکہ لوگ اپنے کفن کے ساتھ محشور ہونگے ،کہا گیا ان کے لئے کفن کہاں ہے؟ فرمایا جو ان کو زندہ کرے گا وہی ان کے کفن کوتازہ کرے گا۔

٢۔”عن الصادق  ں قال: اذا اراد اللّٰہ ان یبعث الخلق امطر السماء اربعین صباحا فاجتمعت الاوصال ونبتت اللحوم”۔(٢)

حضرت امام جعفرصادقـ  نے فرمایا: جب خداوند عالم لوگوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو چالیس دن تک زمین پر بارش ہوتی رہے گی ،اس وقت وہ تمام اعضاء جمع ہونگے اوران پر گوشت چڑھیںگے۔

٣۔عن الصادقںقال: اتی جبرئیل رسول اللہ ۖفاخذہ وفاخرجہ الی البقیع فانتہی بہ الی قبر فصوت بصاحبہ فقال : قم باذن اللّٰہ ، فخرج منہ رجل ابیض الراس واللحیه یمسح التراب عن وجہہ وہو یقول : الحمد للّٰہ واللّٰہ اکبر ، فقال جبرئیل : عدبادن اللّٰہ ، ثم انتہی بہ الی قبر اٰخر ،فقال : قم باذن اللّٰہ فخر ج منہ رجل مسود الوجہ وہو یقول : یا حسرتاہ یا ثبور اہ،ثم قال لہ جبرئیل : عدالی ماکنت باذن اللّٰہ ،فقال: یا محمد ہکذا یحشرون یوم القیامه، والمؤمنون یقولون ہذالقول ، وہؤلاء یقولون ماتری”(١)

حضرت امام صادق   ـ سے منقول ہے کہ جناب جبرئیل حضرت رسول خدا  ۖ کی خدمت میں تشریف لائے اور حضرت  ۖ کو بقیع کی طرف لے گئے وہاں   ایک قبر پر پہنچے تو صاحب قبر کو آواز دی اور کہا : خداوند کریم کی اجازت سے قبر سے اٹھ جائو !، اتنے میں ایک شخص جس کے سر کے  بال اور داڑھی سفید ہوچکی تھی قبرسے باہر آیا اس کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے بدن سے مٹی کو جھاڑ رہا تھا اور کہتا تھا : الحمد للّٰہ ،واللّٰہ اکبر، جبرئیل  ـنے کہا خدا وند عالم کے اذن سے دوبارہ پلٹ جائو ، اس کے بعد دوسری قبر پر لے گئے اور کہاخداوند عالم کے اذن سے اٹھ جائو، اتنے میں ایک شخص قبر سے باہر آیاجس کا چہرہ سیاہ تھا  ، وہ کہہ رہا تھا ”یا حسرتاہ یا ثبوراہ!”(ہائے افسوس ہائے ہلاکت) جبرئیل  ـنے کہا : جس حالت میں تھے پلٹ  جائو!   اس کے بعد جبرئیل  ـنے کہا: یا محمد  ۖ ! لوگ ایسی حالت میں روز قیامت محشور ہونگے مومنین حشر کے وقت یہ کلمات زبان پر جاری کریں گے دوسرے لوگ بھی اس طرح محشور ہونگے جو کچھ آپۖ نے دوسرے صاحب قبر سے ملاحظہ کیا ۔

آیات اور روایات کے مجموعہ سے (میں نے کچھ آیات اور روایات کو نمونہ کے طور پر نقل کیا )بخوبی استفادہ کیاگیا کہ روز قیامت انسانوں کی روح ، دنیوی ابدان کے ساتھ محشور ہوگی۔

 

معاد جسمانی کے سلسلے میںآخوند ملا صدرا کا نظریہ

 

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آخوند ملاصدرا مشہور فیلسوف بہت سے مقا م پر تصریح کرتے ہیں کہ قیامت میں جو چیز پلٹے گی اور عود کرے گی یہی بدن ہے بالکل وبعینہ یہی بدن ہے ، مگر بار ہا تصریح کی ہے کہ بالکل اس بدن سے مراد  ، بدن عنصری و مادی نہیں ہے ،بلکہ صورت بغیر مادہ کے ہے ۔ جوقائم ہے نفس  کے ذریعہ اور ملکات نفسانی کے ذریعہ اس نفس کا انشاء کیاگیا ہے۔

اور یہ صورت متوسط لوگوں کے لئے دنیوی انسان کو دکھائی دے گی اور نشان دے گی اور کامل انسانوں کی اس نشأه  میں فقط روح ہوگی ۔

اب ہم آخوند ملاصد ر ا کی بعض عبارتوں کی یاد آوری کریں گے:

١۔”فکلجوھر نفسانی مفارق یلزم شبح مثالی ینشامنہ بحسب ملکاتہ واخلاقہ وہیئاتہ النفسانیه بلا مدخلیه الاستعدادات وحرکات المواد کما فی ہذا العالم شیئا فشیئا” ا لی ان قال ”فان قلت : النصوص القراٰنیہ داله علی ان البدن الاخروی لکل انسان ہوبعینہ ہذا البدن الدنیاوی لہ ۔قلنا : نعم ولکن من حیث الصوره لامن حیث الماده وتمام کل شیء بصورتہ لابمادتہ۔”

پس ہر جوہر مفارق نفسانی  کے لئے شبح مثالی لازم و ضروری ہے کہ جو نفس سے ملکات کے مطابق انشاء ہوئی ہے استعداد کی مدخلیت اور مادوں کی حرکات کے بغیر جس طریقہ سے دنیا میں ہوگی ۔

اس کے بعد کہتے ہیں : اگر کہو گے کہ قرآن کی قطعی دلیلیں ثابت کرتی ہیں کہ قیامت میں یہی دنیاوی بدن ہوگا تو ہم کہیں گے : صحیح ہے کہ یہی دنیا وی بدن ہوگا مگر صورت کے اعتبار سے نہ کہ مادہ کے اعتبار سے ،اس لئے کہ کسی شے کی شیئیت اس کی صورت سے ہے نہ کہ مادہ سے ۔

 

٢۔”ونزل من ہذا المرتبه من لاعتقاد فی باب المعاد وحشر الاجساد، اعتقاد علماء الکلام کالامام الرازی ونظرائہ بناء علی ان المعاد عندہم عباره عن جمع متفرقات اجزاء مادیه الاعضاء اصلیه باقیه عنہم ” الی ان قال:: ” ولا یخفی علی ذی بصیره ان النشاه الثانیه طور اخر من الوجود یباین ہذا الطور المخلوق من التراب والماء والطین ، وان الموت والبعث ابتداء حرکه الوجود الی اللہ اوالقرب منہ لا العود الی الخلقه المادیه والبدن الترابی الکثیف الظلمانی”۔(١)

اور اس مرتبہ سے حقیر و پست تر ( کہ جو پہلے ذکر کیا گیا ہے ) معاد کے باب میں اعتقادی نظریہ اور اجسام کا محشور ہونا علمائے علم کلام کے اعتقاد کے مطابق جیسے امام فخر رازی اور ان ہم فکر وں کا نظریہ ہے ۔

کیونکہ ان کے نزدیک معاد و قیامت متفرق شدہ مادی اجزاء و اعضاء کا جمع کرنا ہے ۔ باقیماندہ اجزاء اصلی کے ساتھ ان تمام اجزاء کو جمع و محشور کرنا ہے ۔ یہاں تک کہ کہتے ہیں :کسی صاحب فکرو نظر پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ نشاه دوم وجود سے ہٹ کر ایک دوسرا ہی ماجرا ہے۔

اس دنیا کی خلقت خاک و آب اور مٹی سے ہے اور یہ موت و حشر خداوند عالم کی جانب سفر کی ابتداء ہے یا یہ اس ( خداوند عالم ) کی جانب قرب کی ابتدا ہے نہ کہ مادی خلقت و خاکی بدن کی طرف پلٹنا۔

جو کچھ بیان کیا گیا اس سے قرآن کریم اور معتبر احادیث سے مستفاد و مطالب اور آخوند ملاصدرا کے نظریہ میں فرق و تغایر واضح ہوجاتا ہے ۔

ہاں ملاصدرا نے اسی جسم و جسمانیت اور اس کے امثال کا ذکر متعدد بار کیا ہے مگر اس کی تصریح میں بیان کیا ہے کہ مراد اس بدن سے ،عنصری و مادی بدن نہیں ہے ۔

 

ملاصدرا کے نظریہ کی رد میں تین برجستہ شخصیتوں  کے اقوال

اس بحث کے خاتمہ پرتین اہم علمی صاحب تقویٰ شخصیتوں کے اقوال کو نقل کرتے ہیں وہ برجستہ شخصیتیں مرحوم آیهاللہ مرزا احمد آشتیانی ، آیه اللہ حاج شیخ محمد تقی آملی رحمه اللہ علیہ اورآیه اللہ سید احمد خوانساری رحمهاللہ علیہ ہیں کہ جنھوں نے مطالب کی اچھی طرح سے شرح کی ہے اور ملاصدرا کے نظریہ کی رد اور مخالفت میں شرعی دلیلوںکو کتاب خدا اور سنت نبوی واحادیث کے ذریعہ ثابت کیا ہے اس کو آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ملاحظہ فرمائیں :۔

١۔مرحوم مرزا احمد آشتیانی، اصل معاد کو ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

”الثانی انہ بعد ماثبت بحکم  العقل والنقل لزوم المعاد ویوم الجزاء وقع البحث فی ان ما ینتقل الیہ الارواح فی القیامه الکبری ویوم الحساب، ہل ہو عین الابدان الدنیویه البالیه العنصریه بشمل شتاتہا وجمع جہاتہا بامرہ تبارک وتعالی کما یقتضیہ الاعتبار حیث ان النفس خالفت او اطاعت وانقادت لما کانت بتلک الجوارح فحسن المجازات وکمال المکافات بان یکون المجازی عین من اطاع او عصی ام لا ،بل تنتقل الی صور مجرده تعلیمیہ  ذا ت امتداد نظیرالقوالب المثالیتہ والصور المارتیہ؟”

الی ان قال:

”ماوقع التصریح بہ فی القرآن الکریم ہوالاول ،کما فی جواب سؤال ابراہیم ں حیث قال:رب ارنی کیف تحیی الموتی قال اولم… حکیم وقولہ تعالی فی جواب (ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ) وقولہ عزشانہ فی جواب سؤال من یحیی العظام وہی رمیم قل یحییہا الذی انشاہا اول مره وہو بکل خلق علیم وغیر ذلک من الایات۔”

الی ان قال:

”ولکن جماعه من اہل الحکمه المتعارفہ ذہبوا لشبہه عرضت لہم الی الثانی والابد لنا من حلہا ودفعہا بعون اللہ تعالی۔”

دوم :عقل اور نقل کے حکم کے مطابق معاد کے لازم ہونے اور روز حساب کے ثابتہونے کے بعد ،بحث اس میں ہے کہ جس چیز سے ارواح قیامت اور روز حساب   تعلق رکھیں گی بعینہ و بالکل یہی  دینوی اجسام ہیں  کہ جن کے پراکندہ ہونے کے باوجود انھیںانہی بدنوں کو جمع کیا جائے گا خداوند عالم کے حکم کے مطابق جس طرح عقلائی اعتبارسے بھی ان ہی مطالبکی اقتضاء کرتا ہے اس لئے کہ : خداوند کی مخالفت یا موا فقیت اور اطاعت ان ہی اعضاء اورجوارح نے کی ہے پس بہتر ہے قیامت کے دن مجازات و عقوبت بھی ان ہی اعضاء وجوارح کوہونی چاہیئے اس بیان کے مطابق جزا یا سزا پانے والا وہی  اطاعت   یانافرمانی  کرنے والا ہو  یا وہ نہ ہو بلکہ ارواحمجردہ ہوں، اجسام تعلیمی کی صورتوں میں کہ جس میں امتداد بھی موجود ہو جسے مثالی (برزخی)ڈھانچہ یا ان صورتوں اور شکلوں کی طرح جو آئینوں میں منتقل ہوتی ہیں اس کے بعد آپ فرماتے ہیں :

جس چیز کی قرآن کریم   تصریح کرتا ہے وہ در حقیقت پہلا قول ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے کہاکہ اے میرے پروردگار ! تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا وغیرہ ………

اس کے جواب میں خداوند عالم نے فرمایا : کیا تم یقین نہیں رکھتے ہو؟ اسی طرح خدا نے اس کے جواب میں فرمایا: انسان گمان کرتا ہے ہم اس کے بدن کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے بلکہ ہم یقینا جمع کریںگے اور ان ہی ہڈیوں کو پہلی حالت میں پلٹانے کی طاقت رکھتے ہیں حالانکہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور پور کو پہلی حالت پر پلٹا دیں۔

خداوند رب العزت نے   اس سوال کے جواب میں کہ (جب ایک شخص خدمت پیغمبر اکرم  ۖ میں ایکبوسیدہ ہڈی لیکر آیا اور ہاتھوں میں پیسنے کے بعد کہتا ہے کہ کون ہے جو ان بوسیدہ ہڈیوںکو زندہ کرے گا حالانکہ یہ تو بالکل پراگندہ و متلاشی ہوچکی ہے؟۔ اے پیغمبر  ۖ آپ کہہ دیجئے ! ان بوسیدہ ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے ابتداء میں ان کوخلق کیا ہے اور وہ ہر چیز کے خلق کرنے پر قادر وداناوتوانا ہے۔ (چاہے کوئی چیزپہلے سے ہو یا نہ ہو ۔ یا کوئی چیز ہو لیکن پراگندہ ہو چکی ہو تو اس چیز کو  پہلی صورت میں پلٹا سکتا ہے ) اس طرح قرآنی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس بدن عنصری کومادی کے سا تھ انسان کی بازگشت ہے۔

لیکن فلاسفہکے ایک گروہ   کے یہاں شبہہ ایجاد ہوا ہے، جس کی بنا پر وہ دوسرے قول اور نظریہ کے قائل ہیں ۔ (قیامت کے دن روح کا تعلق   مثالی  بدن کی شکل میں ہوگا) لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے شبہات کو  خداوند عالم کی مدد اور استعانت سے  حاصل کریں ،اس کے بعد آخوند ملا صدرا کے مسلک کو خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہوئے اس پر انتقاد و تنقید کرتے ہوئے  فرماتے ہیں :

”فانکار المعاد الجسمانی وعود الارواح الی الاجسام الذی یساعدہ العقل السلیم  یخالف نص القران بل جمیع الادیان و انکار لما ہو ضروری الاسلام ، اعاذنا اللہ تعالی من زلات الاوہام و تسویلات الشیطان۔”

معاد جسمانی کا انکار اور ارواح کا اجسام میں پلٹنا جس پر عقل بھی مساعدہے اور اس کو   مانتی ہے یہ انکار قرآن کریم کے نص کے خلاف ہے بلکہ یوں عرض کروں تمام ادیان کے خلاف ہے اور دین مقدس اسلام کے ضروریات کا ا نکار ہے خداوند عالم ہم کو ایسی وہمی غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھے اور شیطانی افکار اور وسوسوں سے نجات د ے۔

٢۔ جناب آیه اللہ احمد خوانساری بحث معاد میں فرماتے ہیں پس بیشک  جو بدن قیامت کے دن محشور ہوگاوہ یہی مادی و عنصری بدن ہے، چنانچہ یہ مطلب بالکل صراحت کے ساتھ قرآنی آیات و احادیث میں موجود ہے اور کبھی کہاجاتا ہے قیامت کے دن جو بدن محشور ہوگا وہ یہ بدن مادی نہیں ہے بلکہ بدن مثالی ہے جو خداوند عالم کے اذن سے نفس کے ذریعہ وجود میں آیا ہے اور یہ بدن مثالی مختلف ہے اختلاف ملکات نفسانیہ کی بناپر کہ جو دنیا میں حاصل ہوا ہے

اس کے بعد شروع کرتے ہیں شبہوں کو ذکر کرنا اور ان کا جواب دیتے ہوئے فرماتے  ہیں ۔

اس بحث میں کچھ شبہات موجودہیںکہ جو دوسرے قول سے مناسبت رکھتے ہیں ۔ (وہ یہ کہ قیامت میں مثالی بد ن محشور ہونگے ) اس کے بعدشبہوں کو ذکر کرتے ہوئے ان کا جواب دیتے ہیں۔اس کے بعد وہ آیات اور روایات جو معاد کومذکورہمعنی میں  ثابت کرتی ہیں ان کو ذکر کرتے ہیں۔

٣۔ مرحوم آیهاللہ مرزا محمد تقی آملی رحمه اللہ علیہ فقیہ وفلسفی ، تعلیقہ شرح منظومہ کے درر الفوائد میں توضیح اور تعلیق کے بعد اس سلسلے میں جس کو مصنف نے اختیار کیا ہے فرماتے ہیں یہ آخری چیز ہے جو کہ اس طریقہ کے بارے میں کہا جاسکتاہے   لیکن حقیقت مطلب ومفہوم یہ ہے کہ :

”ہذا غایه ما یمکن ان یقال فی ہذہ الطریقه ولکن الانصاف انہ عین انحصار المعاد بالروحانی لکن بعباره اخفی فانہ بعد فرض کون شیئیه الشیء بصوربہ وانّ صوره ذات النفس ہو نفسہ وان الماده الدنیویه لمکان عدم مدخلیتھا فی قوام الشیء لایحشر، وان المحشور ہوالنفس ،غایه الامر اما مع انشائہا لبدن مثالی قائم بہا قیاما صدوریاً مجرداًعن الماده ولوازمہا الا المقدار کما فی نفوس  المتوسطین من اصحاب الشمال او اصحاب الیمین و اما بدون ذلک ایضاً کما فی المقربین (ولعمری) ان ہذا غیر مطابق مع ما نطق علیہ الشرع المقدس علی صادعہ السلام والتحیهوانا اشہد اللہ وملائکتہ  وانبیائہ ورسلہ انی اعتقد فی ہذہ الساعه وہی ساعه الثلاث من یوم الحد الرابع عشر من شہر شعبان المعظم سنه ١٣۶٨ فی امر المعاد الجسمانی بما نطق بہ القران الکریم واعتقد بہ محمد ۖ والائمه المعصومین صلوات اللّٰہ علیہم اجمعین وعلیہ اطبقت الامه الاسلامیه …”

یہ آخری چیز ہے جو اس طریقہ وروش کے بارے میں کہی جاسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے معاد کا معاد روحانی میںثابت ہونا منحصر ہے مگر یہ بات نہایت ہی پوشیدہ اورمخفی طور پر کہی گئی ہے بس جب ہم نے فرض کر لیا کہ کسی شے کی ہستی اور وجوداسی  صورت میں   اور یہ کہ صاحب نفس کی صورت خود اس کا نفس   ہے اور یہ کہ دنیوی مادہ کسی شے میں مداخلت نہ رکھنے کی وجہ سے محشور نہیں ہوگااور یہ کہ قیامت کے دن جو چیز محشور ہوگی وہ وہی نفس ہے نہایت امر یا جسم مثالی   نفس کے انشاء   سے حاصل ہوتا ہیکہ اس بدن مثالی کا قیام ایک قسم کا صدور جو مادہ اور لوازم مادہ سے عاری ہے سوائے مقدار کے ۔چنانچہ یہ مطلب نفوس متوسطہ جیسے اصحاب شمال (جہنمیوں) یا اصحاب یمین (بہشتیوں) میںموجود ہے ۔ یا انشائے نفس کے بغیر ہے   جسم مثالی محشور ہوتا ہیجس طرح یہ بات مقربین سے مخصوص ہے، لیکن مجھیاپنی جان کی قسم ہے کہ یہ عقیدہ    شریعت مقدسہ کے مطابق نہیں ہے کہ اس شریعت کے مبلغ اور مبین پر (پیغمبر اکرم  ۖ) درود وسلام ہو،اور میںاللہ اور اس کے ملائکہ اور انبیاء و مرسلین کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ اس وقت    ١۴شعبان المعظم ١٣۶٨ھ اتوار کے دن تین بجے  ، اس معاد    جسمانی پر میرا عقیدہ ہے کہ جس کو قرآن مجید اور حضور اکرم ختمی المرتبت  ۖ اور ائمہ معصومین  ٪ نیبیان فرمایا ہے اور اس بیان پر میرا عقیدہ استوارو قائم ہے اور اس پر تمام امت اسلامی کا اتفاق ہے ان تین  اقوال میں ملاصدرا کے نظریہ اور عقیدہ کو شدت سے رد کیا گیا ہے ۔ اور وہی معاد جسمانی کا عقیدہ   تمام علماء وفقہاء اور محدثینکی نظر میں  مورد   قبول واقع ہوا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

درباره‌ی مدیریت سایت

همچنین ببینید

رونمای از کتاب قران عترت از دیدگاه اقبال لاهوری

به نام خدا طی مراسم با شکوه در هتل بزرگ مشه بروم در شهرستان سکردو …

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

معادله ریاضی را جواب صحیح دهید: *